3

وفاقی وزیر پیٹرولیم کی پریس کانفرنس: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو ملے گا،مستحق صارفین کو ایل پی جی میں ریلیف دیا جائے گا

اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید کمی واقع ہوئی ہے جس کا براہ راست فائدہ عوام کو منتقل کیا جائے گا، اور پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں کے حوالے سے آج اچھی خبر ملنے کی توقع ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ریلیف: وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی واضح ہدایات ہیں کہ مشکل معاشی حالات میں کمزور طبقے کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے۔ حکومت کی کوششوں اور ریفائنریوں کے تعاون سے گزشتہ جمعے کو بھی پیٹرول کی قیمت میں متوقع اضافے کو روکا گیا تھا۔

ایل پی جی کے شعبے میں اصلاحات اور 50 سالہ گٹھ جوڑ کا خاتمہ: علی پرویز ملک نے انکشاف کیا کہ ایل پی جی کے شعبے میں گزشتہ 50 سال سے چند لوگوں کا گٹھ جوڑ قائم چلا آ رہا ہے جسے اب ختم کیا جائے گا۔ مقامی طور پر پیدا ہونے والی ایل پی جی کی فراہمی اب 5 اور 10 ٹن کی مقدار میں شفاف نیلامی کے ذریعے کی جائے گی تاکہ تمام خریداروں کو یکساں مواقع مل سکیں۔

درآمدی انفرااسٹرکچر اور ذخیرہ اندوزی کی روک تھام: پاکستان میں ایل پی جی کی سالانہ کھپت تقریباً 24 لاکھ ٹن ہے جس میں سے نصف سے زیادہ درآمد کی جاتی ہے. حکومت پی ایس او, سوئی سدرن اور پی ایل ایل کے ذریعے بلک خریداری اور درآمدی نظام کو مسابقت کی بنیاد پر کھول رہی ہے. قیمتوں میں استحکام کے لیے 'پرائس اسٹیبلائزیشن فنڈ' قائم کیا جائے گا جبکہ اوگرا کو ایل پی جی اسٹوریجز کا آڈٹ کرنے اور لائسنسنگ کا عمل شفاف بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

مستحق صارفین کو سبسڈی اور سردیوں کی حکمت عملی: بی این ایس پی  کے ڈیٹا کی بنیاد پر مستحق صارفین کو ایل پی جی میں ریلیف دیا جائے گا. حکومت نے سردیوں کی آمد سے قبل گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے حکمت عملی تیار کر لی ہے تاکہ گھریلو صارفین کو ناشتے، دوپہر اور رات کے کھانے کے تینوں اوقات میں گیس کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے، جس کے لیے مہنگی گیس کی خریداری سمیت ضرورت پڑنے پر محدود فراہمی کا نظام بھی اپنایا جا سکتا ہے۔

مجموعی سبسڈی: عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے تقریباً 130 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی ہے، جبکہ توانائی کے شعبے کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے جامع انرجی سیکیورٹی آرکیٹیکچر پر بھی کام جاری ہے۔