بالی ووڈ اداکار عمران خان نے ممبئی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے دوران مبینہ موجودگی کے معاملے پر بمبئی ہائیکورٹ میں غیر مشروط معافی نامہ جمع کرا دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق اداکار نے پیر کے روز عدالت میں جمع کرائے گئے حلف نامے میں بھارت اور اس کے آئین سے گہری محبت اور احترام کا اظہار کرتے ہوئے اپنے اقدام پر معافی طلب کی۔
عمران خان نے اپنے حلف نامے میں مؤقف اختیار کیا کہ احتجاج میں شرکت کرنا ان کا ارادہ نہیں تھا، بلکہ وہ صرف وہاں کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے پہنچے تھے۔ ان کے مطابق انہوں نے نہ کوئی مطالبہ پیش کیا اور نہ ہی مظاہرے سے اپنی وابستگی ظاہر کی۔
اداکار کی قانونی ٹیم ایم زیڈ ایم لیگل نے چیف جسٹس مہیش چندر ترپاٹھی اور جسٹس ادویت سیٹھنا پر مشتمل بینچ کے سامنے ان کا دستخط شدہ غیر مشروط معافی نامہ اور تحریری یقین دہانی جمع کرائی۔
آئندہ کسی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کی یقین دہانی
حلف نامے میں عمران خان نے یقین دہانی کرائی کہ وہ مستقبل میں کسی احتجاج میں شریک نہیں ہوں گے اور نہ ہی براہِ راست یا بالواسطہ کسی دوسرے شخص کو ایسے مظاہرے میں شرکت کی ترغیب دیں گے۔
انہوں نے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمیشہ قانون کی پابندی کرتے آئے ہیں اور اپنے پیشہ ورانہ کام، ٹیکس کی ادائیگی اور لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کے ذریعے ملک کی خدمت کرتے رہے ہیں۔
اداکار کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی زندگی کے 42 برسوں میں سے 40 سال بھارت میں گزارے ہیں اور ان کی زندگی، پیشہ ورانہ سرگرمیاں اور وابستگیاں اسی ملک سے جڑی ہوئی ہیں۔
ممبئی میں احتجاج کے دوران کیا ہوا تھا؟
عمران خان کے مطابق 10 اکتوبر کو وہ ممبئی کے اگست کرانتی میدان میں انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی میں مبینہ بے ضابطگیوں اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کے مطالبے پر ہونے والے احتجاج کی صورتحال دیکھنے پہنچے تھے۔
رپورٹس کے مطابق اس احتجاج کے دوران مبینہ طور پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے بھی یکجہتی کا اظہار کیا تھا، جبکہ ممبئی پولیس نے اداکار کو کچھ دیر کے لیے حراست میں لیا تھا۔
بھارت چھوڑنے کا نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا
واقعے کے بعد فارنرز ریجنل رجسٹریشن آفس کی جانب سے عمران خان کو 28 اکتوبر تک بھارت چھوڑنے کا نوٹس جاری کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق نوٹس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں ملک بدری کی کارروائی کا انتباہ بھی دیا گیا تھا۔
اس کے علاوہ اداکار کا او سی آئی اسٹیٹس منسوخ کرنے کے لیے الگ سے شوکاز نوٹس بھی جاری کیا گیا تھا۔
عدالت میں جمع کرائے گئے حلف نامے میں عمران خان نے اپنے اقدام پر غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے آئندہ ایسے کسی احتجاج میں شرکت نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔








