دیسی گھی پاکستانی گھروں میں کھانوں کا ذائقہ بڑھانے کے لیے استعمال ہوتا ہے لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ بازار سے خریدا گیا گھی واقعی خالص ہے یا اس میں کسی دوسرے تیل یا چکنائی کی ملاوٹ کی گئی ہے؟
بازار میں مختلف برانڈز کے دیسی گھی دستیاب ہیں، جن میں سے اکثر خالص ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، تاہم صرف پیکنگ پر لکھے الفاظ سے گھی کی اصلیت کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔
ماہرینِ غذائیت کے مطابق دیسی گھی خریدتے وقت اس کی تیاری، دودھ کے معیار اور اجزا کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔
دیسی گھی صحت کے لیے فائدہ مند ہے یا نقصان دہ؟
بھارتی ماہرِ غذائیت کیجل شاہ کے مطابق دیسی گھی مکھن کو گرم کر کے اس میں موجود پانی اور دودھ کے زیادہ تر ٹھوس اجزا الگ کرنے سے تیار کیا جاتا ہے۔ اس میں وٹامن اے، ای اور کے سمیت چکنائی میں حل ہونے والے بعض غذائی اجزا موجود ہو سکتے ہیں۔
دیسی گھی میں سیر شدہ چکنائی اور کیلوریز زیادہ ہوتی ہیں، اس لیے اسے اعتدال میں استعمال کرنا چاہیے۔
اصلی اور نقلی دیسی گھی میں فرق کیسے پہچانیں؟
ماہرین کے مطابق صرف گھی کی خوشبو، رنگ یا دانے دار ساخت دیکھ کر اس کے خالص ہونے کی تصدیق نہیں کی جا سکتی۔ خریداری کے دوران چند اہم باتوں پر توجہ دینا مفید ہو سکتا ہے۔
اجزا کی فہرست: پیکنگ پر درج اجزا پڑھیں اور دیکھیں کہ اس میں گھی کے علاوہ کوئی دوسری چکنائی تو شامل نہیں۔
دودھ کا ذریعہ: ایسے برانڈز کو ترجیح دیں جو واضح کریں کہ گھی گائے یا بھینس کے کس دودھ سے تیار کیا گیا ہے۔
لیبل اور معیار: مینوفیکچرنگ، ایکسپائری تاریخ اور متعلقہ فوڈ اتھارٹی کی معلومات ضرور دیکھیں۔
لیبارٹری ٹیسٹ: اگر کمپنی مستند معیار کی جانچ کے نتائج فراہم کرتی ہے تو ان کا جائزہ لیں۔
غیر معمولی قیمت: بہت سستا گھی خریدتے وقت محتاط رہیں، تاہم زیادہ قیمت بھی خالص ہونے کی ضمانت نہیں۔
کیا گھریلو ٹوٹکوں سے خالص گھی کی پہچان ممکن ہے؟
سوشل میڈیا پر گھی کو گرم کرنے، پانی میں ڈالنے یا فریج میں رکھنے جیسے مختلف طریقے بتائے جاتے ہیں۔ تاہم ان گھریلو تجربات سے گھی میں ملاوٹ کی قابلِ اعتماد تصدیق نہیں ہوتی۔ گھی کی خالصیت جانچنے کے لیے مناسب لیبارٹری ٹیسٹ زیادہ معتبر طریقہ ہیں۔









