23

سندھ اور خیبرپختونخوا میں کانگو وائرس سے اموات بڑھنے لگیں، مجموعی ہلاکتیں 5 ہو گئیں

پاکستان کے دو صوبوں میں کانگو وائرس سے مزید اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔ کراچی میں 25 سالہ ماہی گیر محمد زبیر وائرس کا شکار ہو کر جان کی بازی ہار گیا ہے۔

ضلع ملیر سے تعلق رکھنے والا محمد زبیر 16 جون کو شدید بخار، پٹھوں کے درد، خون بہنے اور بے ہوشی کی علامات کے ساتھ اسپتال لایا گیا تھا۔ تشخیص کے بعد اسے فوری طور پر سندھ انفیکشس ڈیزیز اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ 19 جون کو انتقال کر گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ وائرس سے متاثرہ علاقے میں رابطہ میں رہنے والے افراد کی کانٹیکٹ ٹریسنگ مکمل کر لی گئی ہے اور متاثرہ خاندان کو احتیاطی تدابیر سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب خیبرپختونخوا میں کانگو وائرس کے مزید دو مریض دم توڑ چکے ہیں۔ کرک اور شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے یہ مریض حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں زیر علاج تھے۔ مشیر صحت احتشام علی کے مطابق صوبے میں اب تک تین اموات ہو چکی ہیں۔

طبی ماہرین کے مطابق کانگو وائرس جانوروں پر موجود چیچڑ کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے اور اس کی بروقت تشخیص نہ ہونے کی صورت میں جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔