کراچی میں شدید گرمی اور لوڈشیڈنگ کے باعث عید الاضحیٰ پر قربانی کے گوشت کو محفوظ رکھنا شہریوں کے لیے بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق، گوشت دھونے کے بعد اسے خشک کرنا اور ایئر ٹائٹ ڈبوں یا پالیتھن بیگز میں محفوظ کرنا ضروری ہے، تاکہ خراب ہونے سے بچایا جا سکے۔
ماہرین نے خبردار کیا کہ فریزر میں دیر سے رکھنے یا عام پلاسٹک کی تھیلیوں میں محفوظ کرنے سے گوشت میں زہریلے مادے پیدا ہو سکتے ہیں، جو صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مشورہ دیا کہ فریزر بند ہونے کی صورت میں گوشت کو برف، اسٹیل یا تھرموکول کے ڈبوں میں آئس بلاکس کے ساتھ رکھا جائے، جبکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق مستحقین میں فوری تقسیم کرنا افضل عمل ہے۔ ماہرین نے مزید وضاحت کی کہ گوشت کو مہینوں تک جما کر بار بار نکال کر کھانے سے معدے اور آنتوں کی بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں، جبکہ فریزر میں طویل عرصہ رکھنے سے بیکٹیریا اور فنگس پیدا ہو سکتے ہیں، جو فوڈ پوائزننگ، دست، الٹی، یا ہیپاٹائٹس ای جیسے انفیکشنز کا سبب بن سکتے ہیں۔
مقامی رہائشیوں نے بھی گوشت کو محفوظ رکھنے کے مختلف تجربات شیئر کیے، جن میں قصائی کی تاخیر سے گوشت کا کالا ہونا اور فریزر میں بدبو پیدا ہونے کے مسائل شامل ہیں۔









