کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن سے تعلق رکھنے والا ایک نوجوان مہلک جرثومے نگلیریا فولیری کا شکار بن کر جاں بحق ہوگیا۔ محکمہ صحت سندھ نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ رواں سال کی دوسری ہلاکت ہے، اور دونوں متاثرین کا تعلق کراچی سے ہے۔
ابتدائی تفصیلات کے مطابق متاثرہ شخص کو 28 مئی کو شدید بخار اور سر درد کی علامات ظاہر ہوئیں۔ 30 مئی کو اسپتال میں داخلے کے بعد حالت مزید بگڑتی گئی، اور 2 جون کو لیبارٹری ٹیسٹ میں نگلیریا فولیری کی تشخیص ہوئی۔ بدقسمتی سے متاثرہ مریض 2 روز بعد زندگی کی بازی ہار گیا۔
ماہرین صحت کے مطابق نگلیریا فولیری ایک خطرناک جرثومہ ہے جو ناک کے ذریعے دماغ میں داخل ہو کر دماغی خلیوں کو تباہ کر دیتا ہے۔ اس جرثومے کا ذریعہ عام طور پر صاف نہ کیا گیا پانی یا ٹینکیوں میں جمی تہہ ہوتی ہے۔
سندھ حکومت نے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ پانی کو ابال کر استعمال کریں، سوئمنگ پولز سے پرہیز کریں اور حفظان صحت کے اصولوں پر سختی سے عمل کریں۔









