چین میں پہلی بار روبوٹس کے درمیان باکسنگ مقابلے کا انعقاد ہوا، جو ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک انقلابی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ میچ 25 مئی کو شہر ہوانگزو میں چینی روبوٹکس کمپنی "یونی ٹری" کی جانب سے منعقد کیا گیا۔
ایونٹ میں حصہ لینے والے چار "یونی ٹری جی 1" روبوٹس کو انسانی آپریٹرز کنٹرول کر رہے تھے۔ ہر میچ تین راؤنڈز پر مشتمل تھا، جن میں ہر راؤنڈ کی مدت دو منٹ رکھی گئی۔ باقاعدہ اصولوں کے مطابق، روبوٹس صرف سر یا پیٹ پر حملہ کر سکتے تھے۔
ان روبوٹس کو پہلی بار 2024 میں متعارف کرایا گیا تھا۔ 4.3 فٹ لمبائی اور 35 کلوگرام وزن کے حامل یہ روبوٹس مصنوعی ذہانت، موشن کنٹرول اور سینسر فیوژن جیسی جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میچز نے ثابت کیا کہ یہ روبوٹس نہ صرف مخالفین کے حملوں کا بروقت جواب دے سکتے ہیں بلکہ بدلتے ماحول کے مطابق فوری ردعمل بھی ظاہر کرتے ہیں۔ یہ صلاحیتیں انہیں مستقبل میں صنعتی شعبے اور ریسکیو آپریشنز میں کارآمد بنا سکتی ہیں۔
تاہم، مقابلوں کے دوران بعض اوقات روبوٹس کو کنٹرول کرنے میں مشکلات بھی سامنے آئیں، جو اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہیں کہ رئیل ٹائم آپریشنز میں بہتری کی گنجائش ابھی باقی ہے۔








