35

نیند کا دشمن الارم؟ بار بار الارم بند کرنا صحت کے لیے نقصان دہ قرار

اسلام آباد: الارم کلاک کا روزمرہ استعمال ہماری نیند کی روٹین کا اہم حصہ بن چکا ہے، تاہم متعدد عالمی تحقیقی رپورٹس خبردار کرتی ہیں کہ یہ سہولت درحقیقت ہمارے جسمانی نظام کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔

فرانس کی یونیورسٹی Notre Dame اور امریکہ کی ورجینیا یونیورسٹی کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو افراد قدرتی طور پر بیدار ہوتے ہیں، ان کی نیند کا معیار الارم استعمال کرنے والوں کی نسبت کہیں بہتر ہوتا ہے۔

ورجینیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ صبح زبردستی الارم کے ذریعے اٹھنے والے افراد کا بلڈ پریشر 74 فیصد تک بڑھ جاتا ہے، جو دل کے مریضوں کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔

تحقیق کے دوران 32 افراد پر دو دن کے تجربات کیے گئے، جن میں الارم سے بیداری اور قدرتی بیداری کے اثرات کا موازنہ کیا گیا۔ نتائج نے واضح کیا کہ الارم کے ذریعے بیداری نہ صرف جھنجھلاہٹ کا باعث بنتی ہے بلکہ دل کی شریانوں پر اضافی دباؤ ڈال کر ہارٹ اٹیک اور فالج جیسے جان لیوا امراض کا خطرہ بڑھاتی ہے۔

ماہرین نے تجویز کیا ہے کہ بہتر نیند اور صحت کے لیے سنوز بٹن سے گریز کریں اور قدرتی بیداری کی عادت اپنانے کی کوشش کریں۔