34

خیبر پختونخوا حکومت کا بڑا قدم—مقامی علاج کے لیے مقامی ڈاکٹرز

 خیبر پختونخوا میں ڈاکٹروں کی کمی دور کرنے کے لیے بڑا قدم— مقامی سطح پر بھرتیاں، شفاف طریقہ کار اپنایا جائے گا۔

خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے بھر کے مختلف اضلاع، جن میں مردان، اپر دیر، بٹ خیلہ اور ہری پور شامل ہیں، کے اسپتالوں میں ڈاکٹروں کی کمی دور کرنے کے لیے مقررہ تنخواہ پر میڈیکل آفیسرز کی بھرتی کا اعلان کیا ہے۔

 بھرتی میں شفافیت کے لیے کمیٹی قائم: اس عمل کو شفاف بنانے کے لیے ضلعی سطح پر شکایات سننے والی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اس کمیٹی کی سربراہی اسپیشل سیکرٹری صحت کریں گے، جب کہ دیگر ممبران میں ایڈیشنل سیکرٹری صحت، ڈائریکٹر ایچ آر ایم، اور سیکشن آفیسر E-2 شامل ہوں گے۔ امیدوار 10 اگست تک تحریری شکایات ثبوت کے ساتھ جمع کرا سکتے ہیں—اس تاریخ کے بعد کوئی شکایت قبول نہیں کی جائے گی۔

 ڈاکٹروں کی قلت ایک پرانا مسئلہ: صوبے میں عرصے سے ڈاکٹروں کی کمی چل رہی ہے۔ رواں سال کے آغاز میں ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ نے معاہدے کی بنیاد پر میڈیکل آفیسرز اور اسپیشلسٹ ڈاکٹرز کی بھرتی شروع کی، تاکہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتالوں (DHQs) میں بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

 ابتدائی مرحلے میں:

115 میڈیکل آفیسرز مختلف اسپتالوں میں تعینات کیے جا رہے ہیں

51 اسپیشلسٹ کنسلٹنٹس معاہدے پر رکھے جا رہے ہیں

ان کی تعیناتی DHQs میں جدید یونٹس کو فعال کرنے کے لیے کی جا رہی ہے

 مقامی امیدواروں کو ترجیح: ہیلتھ ایڈوائزر نے واضح کیا کہ بھرتی کا یہ اقدام نہ صرف ڈاکٹروں کو روزگار دے گا، بلکہ مریضوں کو اپنے ضلع میں علاج کی سہولت ملے گی۔ بھرتی کے دوران مقامی امیدواروں کو ترجیح دی جائے گی اور انہیں مخصوص اسپتالوں سے منسلک کیا جائے گا تاکہ تبادلے نہ ہوں۔

 انتظامی خالی آسامیوں پر بھی پیش رفت: جنوری میں حکومت نے 248 دیرینہ انتظامی آسامیاں پُر کرنے کا فیصلہ کیا۔ اسی طرح 600 اسپیشلسٹ ڈاکٹرز کی بھرتی کے لیے پبلک سروس کمیشن کے تحت عمل تیز کیا جا رہا ہے۔

 ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کی حمایت: صوبائی ڈاکٹرز ایسوسی ایشن نے حکومت کے فیصلے کو سراہا۔ ایسوسی ایشن کی درخواست پر عمر کی حد میں 5 سال کا ریلیف دیا گیا ہے، جس سے اپر ایج لمٹ 32 سے بڑھا کر 37 سال کر دی گئی ہے تاکہ مزید ڈاکٹرز اپلائی کر سکیں۔