82

ہڈیوں کی صحت کا بحران اب مردوں تک پہنچ گیا

 کیلشیم کی کمی: اب صرف خواتین کا مسئلہ نہیں رہا

عرصہ دراز تک کیلشیم کی کمی کو خواتین کے ساتھ جوڑا جاتا رہا، لیکن اب طبی ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ مردوں میں بھی یہ مسئلہ تیزی سے عام ہو رہا ہے۔ ناقص غذائیں، محدود دھوپ میں رہنا، اور غیر متحرک طرزِ زندگی اس کی بڑی وجوہات میں شامل ہیں۔

کیلشیم انسانی جسم میں ایک بنیادی معدنی عنصر ہے۔ یہ ہڈیوں کو مضبوط بنانے، پٹھوں کے درست کام، اعصابی نظام کی روانی، اور دل کی دھڑکن کو صحت مند رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ جب خوراک میں کیلشیم کی مقدار کم ہو تو جسم اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے ہڈیوں سے کیلشیم کھینچتا ہے، جس کے نتیجے میں ہڈیاں کمزور ہو جاتی ہیں اور فریکچر یا آسٹیوپوروسس (ہڈیوں کے بھر بھرا پن) کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

مرد بھی خطرے میں

یہ سوچنا کہ صرف خواتین ہی کیلشیم کی کمی کا شکار ہوتی ہیں، اب ایک پرانی بات ہو چکی ہے۔ خاص طور پر شہروں میں رہنے والے مرد اپنی طرزِ زندگی کی وجہ سے اس کمی کا سامنا کر رہے ہیں۔ گھروں میں دھوپ کا کم آنا، جسمانی سرگرمیوں کی کمی اور غیر متوازن خوراک اس رجحان کو بڑھا رہے ہیں۔

 دھوپ کی کمی اور بدلتا طرزِ زندگی

پہلے گھروں میں صحن اور کھلے علاقے ہوتے تھے جہاں روزانہ دھوپ میں بیٹھنا ممکن ہوتا تھا۔ آج کل کے اپارٹمنٹس اور بند ماحول نے قدرتی روشنی تک رسائی محدود کر دی ہے۔ بچے بھی اب زیادہ وقت اسکرینز کے سامنے گزارتے ہیں، جس سے نہ صرف جسمانی سرگرمی کم ہوئی ہے بلکہ وٹامن ڈی کی سطح بھی نیچے جا رہی ہے۔ وٹامن ڈی کے بغیر، کیلشیم جسم میں جذب نہیں ہو پاتا۔

دیہی علاقوں میں لوگ اگرچہ غذائیت سے بھرپور خوراک کم استعمال کرتے ہیں لیکن ان کی روزمرہ کی جسمانی محنت اور دھوپ میں رہنے کی وجہ سے ان کی ہڈیوں کی صحت بہتر رہتی ہے۔

 جدید غذا اور کیلشیم کی کمی

جدید طرزِ زندگی کی خوراک بھی کیلشیم کی کمی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ملاوٹ شدہ دودھ، پراسیسڈ اشیاء، اور مصنوعی اناج گھر گھر عام ہو گئے ہیں۔ کولڈ ڈرنکس اور کیفین والی اشیاء بھی کیلشیم کے جذب کو روکتی ہیں۔ بچے اور نوجوان بہت زیادہ چینی والے “ہیلتھ ڈرنکس” استعمال کرتے ہیں جن سے فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوتا ہے۔

مردوں کا کھانا مقدار میں تو زیادہ ہوتا ہے، لیکن غذائیت کے لحاظ سے اکثر ناقص ہوتا ہے—کاربوہائیڈریٹس اور چکنائی سے بھرپور، جبکہ پھل، سبزیاں اور دودھ کی مقدار کم ہوتی ہے۔

 علامات اور خطرات

ابتدائی طور پر کیلشیم کی کمی خاموش ہوتی ہے—تھکاوٹ، پٹھوں کی کھچاؤ، انگلیوں میں سن ہونا، ناخنوں کا ٹوٹنا جیسے علامات اکثر نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ بچوں میں ہڈیوں میں درد، دانتوں کے مسائل اور جسمانی نشوونما میں رکاوٹ عام علامات ہیں۔ سنگین صورت میں دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو سکتی ہے، اور نازک حالتوں میں دل کی خرابی بھی ممکن ہے۔

 حل کیا ہے؟

کیلشیم کی روزانہ ضرورت خوراک سے پوری کرنا سب سے بہتر طریقہ ہے۔ دودھ، بروکلی، سہانجنہ، انجیر، بادام اور فورٹیفائیڈ سیریلز بہترین ذرائع ہیں۔ ساتھ ہی وٹامن ڈی کا حصول ضروری ہے تاکہ جسم کیلشیم کو اچھی طرح جذب کر سکے۔

بالغ افراد کو روزانہ 800 ملی گرام کیلشیم درکار ہوتی ہے، جو جسمانی وزن اور سرگرمیوں کے مطابق کم یا زیادہ ہو سکتی ہے۔ اگر خوراک سے پورا نہ ہو تو ماہرِ صحت کی مشاورت سے سپلیمنٹ لینا چاہیے۔ کیلشیم اور آئرن کو بیک وقت نہ لیں کیونکہ یہ ایک دوسرے کے جذب میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

ماہرین صحت روزانہ 15–20 منٹ دھوپ لینے اور ہڈیوں کو مضبوط بنانے والی ورزشیں (جیسا کہ چہل قدمی، جاگنگ یا ویٹ ٹریننگ) کی سفارش کرتے ہیں۔

 آگاہی کی ضرورت

مردوں میں کیلشیم کی کمی ایک سنگین مسئلہ ہے، لیکن اس پر بات کم ہوتی ہے۔ صحت کے ماہرین اس موضوع پر بیداری مہمات کی ضرورت پر زور دیتے ہیں تاکہ لوگ بروقت احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

ہڈیوں کی صحت کو صرف خواتین سے جوڑنا درست نہیں۔ اب وقت ہے کہ ہم اسے ایک اجتماعی مسئلہ سمجھیں اور مردوں کے لیے بھی شعور اجاگر کریں۔