241

سی ٹی ڈی کی بڑی کامیابی: مطلوب دہشت گرد مارے گئے، تحقیقات جاری

کراچی کے علاقے منگھوپیر میں پیر کی صبح انسداد دہشت گردی ادارے (سی ٹی ڈی) کی جانب سے ایک خفیہ اطلاع پر مبنی کارروائی کے دوران کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) سے تعلق رکھنے والے تین مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔

سی ٹی ڈی حکام کے مطابق، مارے گئے افراد میں ایک انتہائی مطلوب دہشت گرد بھی شامل تھا، جس کے سر کی قیمت حکومت کی جانب سے 2 کروڑ روپے مقرر کی گئی تھی، جبکہ دوسرا مبینہ طور پر ایک تربیت یافتہ خودکش حملہ آور تھا، جس پر گزشتہ سال کراچی میں چینی شہریوں کو نشانہ بنانے کے الزام کا شبہ ہے۔

کارروائی صبح سویرے اس وقت انجام دی گئی جب سی ٹی ڈی کو اطلاع ملی کہ "فتنہ الخوارج" نامی گروہ سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد منگھوپیر کے ایک گھر میں موجود ہیں۔ سی ٹی ڈی کے ڈی ایس پی راجہ عمر خطاب کے مطابق، پولیس ٹیم نے علاقے کو گھیرے میں لیا، اور جیسے ہی وہ جائے وقوعہ پر پہنچی تو مشتبہ افراد نے فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں شدید جھڑپ ہوئی۔ تینوں دہشت گرد موقع پر ہی مارے گئے۔

ڈی ایس پی خطاب نے سول اسپتال کراچی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دو ہلاک افراد کی شناخت "زفران" اور "قدرت اللہ" کے نام سے کی۔ انہوں نے بتایا، "زفران ایک ہائی پروفائل دہشت گرد تھا، جس کے لیے حکومت نے 2 کروڑ روپے کا انعام مقرر کیا تھا۔ تیسرے شخص کی شناخت تاحال نہیں ہو سکی۔"

انہوں نے مزید کہا کہ مارے جانے والوں میں ایک تربیت یافتہ خودکش حملہ آور بھی شامل تھا، جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ کراچی میں چینی شہریوں پر ہونے والے حملے میں ملوث تھا۔

آپریشن کے بعد بم ڈسپوزل اسکواڈ (BDS) نے جائے وقوعہ کو مکمل طور پر چیک کیا، جہاں سے خودکش جیکٹس، دستی بم، بھاری مقدار میں اسلحہ اور ایک ڈائری بھی برآمد ہوئی، جس میں ممکنہ اہداف کی فہرست درج تھی۔

ڈی ایس پی خطاب نے تصدیق کی کہ تینوں دہشت گرد گھر کے اندر ہی مارے گئے۔ تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ گھر کس کی ملکیت ہے اور اسے بطور محفوظ ٹھکانہ کس نے استعمال کیا۔

سی ٹی ڈی حکام کے مطابق، یہ کارروائی کراچی میں دہشت گرد نیٹ ورک کی موجودگی کا سراغ لگانے کی کوششوں کا حصہ ہے، کیونکہ ملک بھر میں خاص طور پر شہری علاقوں میں عسکریت پسندی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔